ڈونلڈ ٹرمپ کا یوٹرن

 **ڈونلڈ ٹرمپ کا یوٹرن**


مزید برآں، بعید دنوں میں میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہو چکا ہے۔ ایک بیان چند لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے اور اس کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ اس لیے رہنما اپنے الفاظ کے انتخاب میں پہلے سے زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ کا حالیہ بیان بھی اسی میڈیا کی دنیا میں ایک سوچا سمجھا قدم معلوم ہوتا ہے۔


میاں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ سیاست میں سچائیاں بدلتی رہتی ہے۔ یہ یاد اہم ہو جاتا ہے۔ ایک رہنما عوام کے سامنے مضبوط اور جارحانہ انداز اپناتا ہے، جبکہ پسِ پردہ وہی رہنما مذاکرات اور مفاہمت کی راہ اختیار کرتا ہے۔ اس دوہرے رویے کو بعض ناقدین "گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا" بھی کہتے ہیں۔


اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں جہاں رہنماؤں نے وقت کے ساتھ اپنے موقف میں تبدیلی لائی اور نئے مقاصد کے حصول کیلئے پیش قدمی ہوئی ہے۔


آج کے دور میں، جہاں عالمی معیشت، سلامتی اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، کسی بھی ملک کے لیے تنہا فیصلے کرنا آسان نہیں رہا۔


ایران کے معاملے میں بھی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست، عالمی طاقتوں کے مفادات اور علاقائی کشیدگی سب مل کر ایک ایسا منظر نامہ تشکیل دیتے ہیں جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی رہنما اپنے لہجے میں نرمی لاتا ہے تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ معاملات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے لہجے میں تبدیلی لا رہا ہے۔


یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ عالمی سیاست میں اب صرف فوجی طاقت ہی فیصلہ کن عنصر نہیں رہی۔ اقتصادی قوت، سفارتی تعلقات اور عوامی رائے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی ملک کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنے بیانیے کو حالات کے مطابق ڈھالے۔


ٹرمپ کے لہجے میں تبدیلی ایک بڑی تصویر کا چھوٹا سا حصہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عالمی سیاست جلد نہیں بلکہ ایک متحرک عمل ہے، جہاں ہر لمحے حالات بدلتے رہتے ہیں اور پرانے بیانیے بدل جاتے ہیں۔ رہنما اگر اپنے موقف میں لچک پیدا کریں تو یہ ان کی چالاکی بھی ہو سکتی ہے، اسے استعما یونان یا نئی حکمت عملی کیلئے راہ ہموار کرنا سوچوں کو ترتیب دینے کیلئے اقدام بھی کہا جا سکتا ہے۔


آج کی دنیا میں ایسے شعبہ ہائے رہنما ہے جو نہ صرف طاقت کا مظاہرہ کرے بلکہ وقت آنے پر چالاکی اور عیاری کا راستہ بھی اختیار کرے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس ادا میں موجود ہیں۔ ایسے لوگ سوچ کر کچھ کام نہ بھی کرتے اور ایک بات کر کے اس کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں جیسے ٹرمپ نے کہا میں نے یقین دہانی کوشش کرنے کیلئے ایران پر چڑھائی کی دوسرے الفاظ میں اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری اور پاؤں لہولہان کر لیا یعنی وجہ سے امریکیوں کو پتہ رہے ہیں یہ جنگ کیوں چھیڑی ٹرمپ کے پاس مستند جواز نہیں بن رہا۔


اسرائیل امریکہ نے سمجھا تھا ایران وہ جھگڑوں کی مار ہے مگر ایران نے اسے چکنی کا دودھ پلا دیا اور اب ٹرمپ مجبور ہیں کہ کچھ کر رہا ہے اور تحریری سرٹیفکیٹ بھی بانٹ رہا ہے مسٹر ٹرمپ شاید یہ خبر نہیں تمہارے کام لائیں گے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلمانوں کی بڑی عید سے پہلے ہی دے دی جائے اور رحیم ٹرگر خود عہدے سے ہٹا دیا جائے یہی امریکیوں کے حق میں بہتر ہے۔


شاید یہ ایران ہوں تم زندہ قوم ہو تم نے دلیری سے مقابلہ کیا اور تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوایا آپ ایک تاریخ رقم کر کے دکھا دیں۔

جدید تر اس سے پرانی