چالان نہیں پیار

 چالان نہیں پیار

یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا


متعلقہ حکام نے اس صورتحال کا زمینی حقائق

کے مطابق جائزہ لیا ہے؟ کیا انہوں نے خود

ان لوگوں کے طور پر یہ عوام کی مشکلات کو

محسوس کیا ہے؟ اگر نہیں تو یہ ایک لمحہ فکریہ

ہے۔ حکمرانی صرف احکامات جاری کرنے کا

نام نہیں بلکہ عوام کے مسائل کو سمجھنے اور ان کا

حل نکالنے کا نام ہے۔

رمضان المبارک میں خاص طور پر

انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ عوام کیلئے آسانیاں پیدا

کرے۔ ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے

جدید اور موثر طریقے اپنائے جاسکتے ہیں۔ مثال

کے طور پر، ٹاکن کی بجائے موبائل کٹ کو

بڑھایا جائے، اہم داخلی و خارجی راستوں پر

متبادل راستے فراہم کیے جائیں، اور شہریوں

کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے۔ یہ

اقدامات نہ صرف عوام کا اعتماد بحال کریں گے

بلکہ اداروں کی ساکھ کو بھی مضبوط کریں گے۔

اس تمام صورتحال میں سب سے اہم

بات یہ ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان

اعتماد کا رشتہ برقرار رہے۔ جب عوام کو یہ محسوس

ہو کہ ان کی بات سنی جا رہی ہے اور ان کے

مسائل کا حل نکالا جا رہا ہے تو وہ بھی قانون کی

پاسداری میں بھرپور تعاون کرتے ہیں۔ لیکن

اگر ان کی مشکلات کو نظر انداز کیا جائے تو بے

یقینی اور بد اعتمادی جنم لیتی ہے۔

متعلقہ حکام بشمول ڈی جی او

اور ڈی آئی جی ٹریفک کو چاہیے کہ جدید سال

ڈی ایس پی ٹریفک واری کے بھی گزارش

ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور

شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے

ٹاکن کے نظام میں نرمی پیدا کریں۔ یہ نہ

صرف ایک انتظامی فیصلہ ہوگا بلکہ عوام کیلئے

ایک بڑی سہولت بھی ثابت ہوگا۔ امید ہے

کہ ذمہ داران اس اپیل کو سنجیدگی سے لیں

گے اور فیملی کے شہریوں کو ریلیف فراہم کریں

گے۔ آسانیاں پیدا کی جائیں، مشکلات

نام نہ ہوں۔ اگر ہم یہ پیغام دیکھ لیں تو بہت سے

مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔




اسلامی تعلیمات معاشرے میں نرمی، اور کاروبار کا بند ہونا کے لئے پھر یہ اقدامات اپنی

برداشت اور سہولت کو فروغ دینے کا درس دیتی افادیت کھو دیتے ہیں۔

ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گلگت میسی کے نام پر اور شہریوں کے کام کی

شہر میں ان دنوں ایک ایسی صورتحال جنم لے نہایت واضح اور جائز ہے۔ وہ کٹنی کے

چکی ہے جس نے عوام، تاجروں اور عام خلاف نہیں، بلکہ اسے چاہیے اور غیر ضروری

شہریوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ شہر کے رکاوٹوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ ان کا

چاروں اطراف ٹریفک پولیس کی جانب سے مطالبہ صرف اتنا ہے کہ ٹاکن میں نرمی برتی جائے،

قائم ٹاکے نہ صرف آمد و رفت میں رکاوٹ

بن رہے ہیں بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی

شدید متاثر کر رہے ہیں۔

میسی جو کہ ایک معروف تجارتی مرکز

ہے، یہاں کی معیشت کا دارومدار روز مرہ خرید

فروخت پر ہے۔ خاص طور پر رمضان المبارک

میں کاروبار میں کچھ بہتری کی امید کی جاتی ہے

کیونکہ عید الفطر اور اس کے بعد شادیوں کے

سیزن کے باعث خریداروں کا رجحان بڑھ جاتا

ہے۔ مگر اس بار صورتحال اس کے برعکس نظر آرہی

ہے۔ ٹاکن کی بھرمار نے شہریوں کو حصار میں

لے لیا ہے، جہاں داخل ہونا اور باہر آنا شہریوں

کیلئے ایک آزمائش بن چکا ہے۔

تاجر برادری جو پہلے ہی مہنگائی، کم ہوتی اس اقدام کو کیا جائے یا اسے طریقہ کار بنانا کے

قوت خرید اور معاشی دباؤ کا شکار ہے، اب ان جائیں جس سے شہریوں کو کم سے کم پریشانی ہو۔

ٹاکن کی وجہ سے مزید مشکلات میں گھر گئی ہے۔ ایک معقول اور قابل عمل تجویز ہے جس پر سنجید

جدید تر اس سے پرانی