”دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف“
دنیا کی سیاست ہمیشہ طاقت و مفاد کے گرد گھومتی رہی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ بڑی طاقتیں کبھی بھی کسی قوم کی قومی تحفظات کے لئے نہیں آئیں، بلکہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے زمین کے مختلف خطوں میں اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط بناتی ہیں۔ یہ بستی سے مشرقی وسطیٰ کے کئی ملکوں اور خطوں پر اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں حکمرانوں کے فیصلوں میں ہمیشہ یہ تاثر قائم رہے کہ وہ ان کی سلامتی اور دفاع کے لئے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پہلے سے واصل امریکہ کی عالمی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کے ذریعے یہ نہ صرف مشرقی وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر یورپ کے وسیع خطے پر نظر رکھتے ہیں۔ یہائے کمزور سیاست کے حکمران حقائق کے لئے نہیں بلکہ ایک طاقتور ملک کے اشارے اور کچھ پلک جھپکنے میں ہی اپنے مفاد کی دنیا کو تباہ کر سکتے ہیں۔
عرب حکمرانوں کو ہمیشہ اس بات کا ادراک رہا ہے کہ وہ اپنے ہی ملک کی سرزمین پر غیر ملکی قوتوں کے استعمار کو دعوت دے کر اپنے عوام کو کسی اور سمت میں لے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے جہاں عربوں کے بڑے حصے مسلمان ملک، مثلاً ایران کی سرزمین پر ہم ہمیشہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ خطرے کی گھنٹی بجا کر اپنی طرف توجہ دلانے کی صورت میں اس طرف توجہ دلانے کا نشانہ بناتے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے حکمران اپنے ہی عوام کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ اپنے مفادات کے لئے کام کرتے ہیں۔
شاید یہ بات عجیب لگے کہ
”دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوئی“
یہ شعر موجودہ عالمی صورتحال پر صادق آتا ہے۔ جب کوئی ملک اپنے دشمن کو اپنے گھر میں جگہ دے دے، تو پھر دشمن اور دوست کی پہچان ختم ہو جاتی ہے۔ یہی صورتحال آج کل عرب ممالک کی بن رہی ہے، جہاں غیر ملکی طاقتیں اپنے فوجی اڈوں کے ذریعے پورے خطے کی سیاست کو کنٹرول کر رہی ہیں۔
ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں سے خطے میں ایک مضبوط کردار ادا کیا ہے، بہت سے ممالک اس کی پالیسیوں سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ایران نے عالمی طاقتوں کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت کی راہ اختیار کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر عالمی طاقتوں پر تنقید کرتا ہے۔ لیکن اس مزاحمت نے عوام میں اپنا مقام بنایا ہے، اس کی طرف سے مفادات کے لئے کھڑی ہو جانے والی طاقتوں کے لئے بھی اسے عمل طور پر زیر کرنا آسان نہیں رہتا۔ اگر واقعی ایران نے عرب ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے غیر ملکی فوجوں کے ٹھکانے ختم کر دیں، تو یہ ملک کے لئے بہتر ہے۔ کیونکہ یہ خطے کے مفاد کے لئے بھی کسی ملک میں ہی فوجی ٹھکانے قائم ہوں، تو وہ ملک آہستہ آہستہ اپنی طاقتوں کی تشہیر کو کم کر دیتا ہے۔
اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اپنی سلامتی کے لئے انہیں ہمیشہ باہر کی طاقتوں پر انحصار کیوں کرنا پڑتا ہے۔ کیا ایران، عرب مسلمانوں کی دنیا کے لئے ایک مثال نہیں ہے؟ کیا یہ اسلامی دنیا کی ناکامی نہیں کہ ممالک مشترک مفاد کی بجائے آپس میں لڑتے ہیں، جس سے اسرائیل کی فوج شامل ہوں، اور عرب ممالک کا بھی اپنے مفادات کے لئے کام کرنے میں کوئی کردار نہیں ہے۔
اسلامی ممالک سے یہ ضرور عرض کرنا چاہیں گے کہ پاکستان، ترکی، مصر اور دیگر مسلمان ممالک میں، خاص طور پر ان کی حکومتوں کو عوام کے مفاد کو سامنے لانا چاہیے، کیونکہ اس سے اسلامی مفادات کے تحفظ کا بھی امکان بڑھتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان اپنے نقصان کا حصہ بنتے رہے ہیں، تاکہ ایک مشترکہ اسلامی دفاعی نظام قائم ہو جائے، تو کسی بھی ملک کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔
فلسطین کی بات کی جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس معاملے میں پاکستانی حکومتوں اور ماہرین نے ہمیشہ اپنے موقف کو عالمی فورم پر اور دیگر ممالک میں شروع کر دیا ہے۔ اسی طرح ایران میں بھی یہ بھی کہا جاتا ہے