پیٹرولیم کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ منظور
دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا موازنہ کیا جائے تو ایک حیران کن اور تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں پہلے اور 7 مارچ 2026 کو مختلف ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ اضافہ پاکستان میں ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 266.17 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 321.17 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی 55 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا جو کہ تقریباً 20.66 فیصد بنتا ہے۔ یہ اضافہ دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
اس کے برعکس بھارت میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 107 روپے تک جبکہ بنگلہ دیش میں صرف 4 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح نیپال میں تقریباً 2.5 فیصد اور سری لنکا میں 3.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک جیسے ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھی معمولی اضافہ ہوا جو چند فیصد سے زیادہ نہیں۔
یورپ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں محدود اضافہ ہوا۔
ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں اتنا زیادہ اضافہ نہیں ہوا پھر پاکستان میں اتنا بڑا بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی لائے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ پیٹرول کی قیمت بڑھنے کا مطلب صرف گاڑیوں کے ایندھن کی قیمت میں اضافہ نہیں بلکہ اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر پڑتے ہیں۔ ہر قیمت مہنگی ہوتی ہے، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں، سبزی، آٹا، چینی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے پورے ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے۔ کسان کی لاگت بڑھ جاتی ہے، صنعتکاری کا پہیہ رک جاتا ہے اور عام مزدور کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بن جاتا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے یہ اضافہ کسی ظلم سے کم نہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر دنیا کے دیگر
حالات مزید خراب ہو رہی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ حکومت عوامی مشکلات کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے اس ظالمانہ اضافے پر نظر ثانی کرے اور اگر قیمت کم کرنا ممکن نہیں تو کم از کم ان تمام اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔
عوام پہلے سے ہی شدید مہنگائی کا شکار ہے اور مزید بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی پریشانی کا اظہار کرے اور فوری عملی اقدامات کرے تاکہ مہنگائی کی اس لہر کو روکا جا سکے اور لوگوں کو کچھ کا سانس لینے کا موقع مل سکے۔ پاکستان میں غریب تو پہلے ہی تباہ حال ہے اور امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ عادلانہ اضافے کسی بھی صورت میں درست نہیں اور پاکستان کے عوام اس ملک میں پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے شدید مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ پیٹرولیم کی قیمتوں پر دو سو پچاس کے بجائے کم سے کم ملک پیٹرول سے چلانا ہے؟